حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر، نیشنل پیغامِ امن کمیٹی اور نیشنل رحمت للعالمین اتھارٹی کے رکن علامہ عارف حسین واحدی نے اپنے خطاب میں کہا: آج ہماری نوجوان نسل کو مختلف فکری، اخلاقی، معاشرتی اور تہذیبی خطرات کا سامنا ہے۔ ان خطرات کے اسباب کو سمجھنے اور نسلِ نو کو ان سے محفوظ رکھنے کے لیے والدین، اساتذہ، علماء، دینی و قومی اداروں، میڈیا اور معاشرے کے تمام طبقات کو مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نسلِ نو کی فکری تربیت، کردار سازی اور اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ ہمیں سیرتِ طیبہ کی تعلیمات کو اپنا کر ایک ذمہ دار، باکردار، بااخلاق اور متحد معاشرے کی تشکیل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
کانفرنس کے اختتامی خطاب میں وزیراعظم پاکستان نے بھی سیرتِ طیبہ کی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور فرقہ واریت کے ناسور کے خاتمے کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے قومی نصاب میں ایسی اصلاحات کی ضرورت کی بھی نشاندہی کی جن کے ذریعہ تعصب سے پاک، اتحاد، رواداری اور باہمی احترام پر مبنی سوچ کو فروغ دیا جا سکے۔

علامہ عارف حسین واحدی نے اپنے خطاب میں اس امر پر زور دیا کہ سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو محض ایک موضوع یا تقریری عنوان کے طور پر نہیں بلکہ عملی زندگی، تعلیم و تربیت اور قومی کردار کی تشکیل کے بنیادی رہنما اصول کے طور پر اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا: اگر نسلِ نو کی فکری و اخلاقی تربیت سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روشنی میں کی جائے تو معاشرے کو درپیش فکری انتشار، اخلاقی انحطاط، تعصبات اور باہمی اختلافات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکتا ہے اور ایک پُرامن، متحد اور ذمہ دار معاشرے کی بنیاد مضبوط بنائی جا سکتی ہے۔









آپ کا تبصرہ